گلبرگہ،26؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایم اے حکیم شاکر) کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن کے قائد اور سابق چیف منسٹرکرناٹک مسٹر سدرامیا نے وزیر اعلیٰ کرناٹک مسٹر بی ایس یڈی یور اپا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شمالی کرناٹک میں سیلاب کی صورت حال سے نپٹنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
مسٹر سدرامیا نے کہا ہے کہ چیف منسٹر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا صرف فضائی معائنہ کیا ہے اور وہ یہاں سیلاب سے ہونے والی زبردست تباہی و بربادی سے متاثر علاقوں کا شخصی طور پر دورہ کرکے معائینہ کرنے اور متاثرین سے ملاقات کئے بغیرواپس چلے گئے۔اس طرح ان کایہ فضائی دورہ بے فیض رہا۔
مسٹر سدرامیا نے گلبرگہ ایر پورٹ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو معاوضہ تک ادا نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہیڈی یور اپا حکومت کی ساری کابینہ نوٹ بنانے میں مصروف ہے۔ مسٹر یڈی یوراپا نے کہا کہ کرناٹک نے بی جے پی کو 25ارکان پارلیمینٹ دئے ہیں لیکن ان میں سے ایک میں بھی اتنی جرائت نہیں ہے کہ وہ کرناٹک کے شمالی علاقہ میں سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں کے پیش نظر مالی امداد روانہ کرنے کے لئے آواز اٹھا سکے۔ ایسے زبان کھولنے سے مجبور ارکان پارلیمینٹ کو لے کر عوام کیا کریں گے۔
انھوں نے ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک اشوتھ نارائن کے بارے میں کہا کہ وہ کیوں نہیں مرکزی حکومت کے پاس جاتے اور وزیر اعظم سے شمالی کرناٹک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی امداد کے لئے فنڈس طلب نہیں کرتے۔علاقہ حیدر آبادکرناٹک کی ترقی کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سدرامیانے کہا کہ حیدر آبادکرناٹک (تبدیل شدہ نام کلیان کرناٹک) کی ترقی کے لئے سب سے زیادہ اہم خدمات کانگریس حکومت نے انجام دی ہیں۔
انھوں نے کہاکہ اس پسماندہ علاقہ کو دستور ہند کیدفعہ 371Jکے تحت لاتے ہوئے اسے خصوصی موقف عطا کیا گیا تاکہ اسے ریاست اور مرکزی حکومتوں سے زیادہ سے زیادہ امدادی فنڈس مل سکیں اور یہاں کے عوام ہر میدان میں ترقی کرسکیں۔اس کے برخلاف اس علاقہ کو خصوصی موقف عطاکرنے اور خصوصی مراعات فراہم کرنے کے ضمن میں بی جے پی قائیدین نیمخالفت کی تھی۔مسٹر سدرامیاکی جانب سیمیڈیا سے خطاب کے موقع پر سابق وزیر کرناٹک ڈاکٹر شرنپرکاش پاٹل، رکن اسمبلی جیورگی ڈاکٹر اجئے سنگھ و دیگر قائیدین کانگریس موجود تھے۔